بیجاپور،27 / جون (ایس او نیوز) بی جے پی کے اہم لیڈران کی گروہی سیاست اور ایک دوسرے پر الزام تراشی اب اتنی بڑھ گئی ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ بسوا راج بومئی اور ایڈی یورپّا بھی اس پر قابو پانے میں بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق وجیا پورا اور باگلکوٹ میں بومئی اور دیگر اعلیٰ سطحی لیڈران کی موجودگی میں ہی بسن گوڈا پاٹل یتنال ، پرتاپ سنہا اورمرگیش نیرانی گروپ کے حامی و مخالف کارکنان آپس میں لڑنے اور ایک دوسرے کے خلاف باہم دست و گریباں ہونے پر آمادہ نظر آئے۔
کہتے ہیں کہ وجیا پورا کی میٹنگ میں ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جبکہ ششی کلا جولّے نے کارکنان سے اپیل کی کہ آنے والے پارلیمانی الیکشن میں موجودہ رکن پارلیمان رمیش جیگاجیناگی کو دوبارہ منتخب کریں ۔ اس پر یتنال کے حامیوں نے " بی آر پی ، بی آر پی " یعنی بسن گوڈا رامن گوڈا پاٹل کے نعرے لگانے شروع کیے ۔ میٹنگ کی صدارت کر رہے بومئی حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آئے جس کے بعد پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے کارکنان کو ہنگامہ آرائی سے روکنے کی کوشش کی ۔ صورتحال اتنی خراب ہوگئی کہ یتنال اور ان کے حامیوں کے رویہ سے ناراض ہو کر سابق وزیر مرگیش نیرانی ، سابق رکن اسمبلی ایس کے نیلوبی اور اے ایس پاٹل میٹنگ ہال سے باہر نکل گئے۔
اسی طرح باگلکوٹ کی میٹنگ میں یہی منظر دہرایا گیا ۔ یہاں بی جے پی کے لیڈر راجو ریونکر نے جیسے ہی مطالبہ کیا کہ اسمبلی الیکشن میں پارٹی مفادات اور بی جے پی امیدواروں کے خلاف کام کرنے والوں کو میٹنگ سے باہر نکالا جائے تو لیڈروں کے حامیوں اور مخالفین نے نعرے بازی شروع کر دی ۔ سابق وزیر گووند کارجول نے حالات پر قابو پانے کی کوشش کی مگر متصادم کارکنان کسی کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوئے ۔ یہاں بھی حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے پولیس کو مداخلت کرنی پڑی اور پولیس کے ذریعے ڈاکٹر شیکھر مانے اور ان کے حامیوں کو میٹنگ ہال سے باہر نکالنے کے بعد ہی میٹنگ کی کارروائی آگے بڑھی۔
پارٹی میں کارکنان کی بد نظمی اور ڈسپلن کی خرابی کو کانگریس سے آیا ہوا انفیکشن قرار دیتے ہوئے بی جے پی کے اہم لیڈر ایشورپّا نے کہا کہ کانگریس سے دل بدلی کرکے بی جے پی میں شامل ہونے والے لوگوں کی وجہ سے بی جے پی کا ڈسپلن خراب ہوگیا ہے اور کارکنان کے اندر بدنظمی اور ہنگامہ آرائی شروع ہوئی ہے۔
ایشورپّا کے تبصرہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سابق وزیر بی سی پاٹل نے کہا کہ بی جے پی کانگریس سے آنے والے سیاسی لیڈروں کی وجہ سے ہی اقتدار میں ہی آئی تھی ۔ جبکہ بی جے پی نیشنل جنرل سیکریٹری سی ٹی روی نے کہا کہ وہ کانگریس سے بی جے پی میں آنے والے لیڈروں کو الزام نہیں دیں گے۔